کتنے سائے محوِ رقص
تیرے در کے پردہء گلفام پر
کتنے سائے، کتنے عکس
کتنے پیکر محوِ رقص
اور اک تو کہنیاں ٹیکے خم ایام پر
ہونٹ رکھ کر جام پر
سن رہی ہے ناچتی صدیوں کا آہنگِ قدیم
جاوداں خوشیوں کی بجتی گتکڑی کے زیر و بم
آنچلوں کی جھم جھماہٹ، پائلوں کی چھم چھم
اس طرف، باہر، سر کوئے عدم
ایک طوفاں، ایک سیل بے اماں
ڈوبنے کو ہیں مرے شام و سحر کی کشتیاں
اے نگارِ دل ستاں
اپنی نٹ کھٹ انکھڑیوں سے میری جانب جھانک بھی
زندگی، اے زندگی
تیرے در کے پردہء گلفام پر
کتنے سائے، کتنے عکس
کتنے پیکر محوِ رقص
اور اک تو کہنیاں ٹیکے خم ایام پر
ہونٹ رکھ کر جام پر
سن رہی ہے ناچتی صدیوں کا آہنگِ قدیم
جاوداں خوشیوں کی بجتی گتکڑی کے زیر و بم
آنچلوں کی جھم جھماہٹ، پائلوں کی چھم چھم
اس طرف، باہر، سر کوئے عدم
ایک طوفاں، ایک سیل بے اماں
ڈوبنے کو ہیں مرے شام و سحر کی کشتیاں
اے نگارِ دل ستاں
اپنی نٹ کھٹ انکھڑیوں سے میری جانب جھانک بھی
زندگی، اے زندگی
Thursday, 11 July 2013
0 comments: